Thursday, 12 April 2018

our inner voice and our behaviour


"لہجے کب تلک میٹھے رکھنے ہیں ہمارے مقاصد طے کرتے ہیں"
کچھ الفاظ ہماری زندگیوں پہ ہماری خوشیوں پہ ڈاکو ثابت ہوتے ہیں،اور ہم اُن الفاظ کو اپنی عزت کا درجہ سمجھ کہ خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہیں ، راجہ صاحب ،چودھری صاحب ،ملک صاحب یا کوہی اور الفاظ جو اکژوبیشتر آپکو عزت دینے کیلۓ استعمال کیے جاتے ہیں اور بیشک ہوتے بھی ہیں لیکن ہمارے معاشرے کی تلخ اور بھیانک حقیقت یہ بھی ہے کہ اکژ ایسے الفاظ کو اپنا وطیرہ بناتے ہیں جب ہم نے کسی نہ کسی سے کسی نہ کسی طور پہ اپنے مقاصد کی تکمیل کی ٹھانی ہوتی ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے ہم خوشامدانہ تعریف کے کتنے پیاسے ہیں کہ اللہ کی پناہ ۔ اور ہم ان الفاظ کو حرفِ آخر سمجھ کہ اپنی جان تک نچھاور کر دیتے ہیں اور اک لمبے عرصی کہ لیے اُن الفاظ کی رنگینوں اور بظاہر میٹھے لہجے کی مٹھاس سے باہر نکلنے سے قاصر ہوتے ہیں اور اک عرصہ کے بعد ہمیں خبر ہوتی ہے کہ یار یہ تو محض اک جُھوٹ تھا،مگر پھر اک اُمید کا چراغ جلتا ہوا دیکھاہی دیتا ہے کہ نہیں یار شاہد کسی کو ہمارا احساس ہوجاۓ مگر آج تک ایسا حادثہ رونما نہیں ہوا اگر ہوا بھی ہے تو یہ شاہد اللہ کا کسی پہ انعام ہوا ہے ۔
ہم سب اُس وقت تک سب کے لیے اچھے ہوتے ہیں جب تک ہم قابلِ استعمال ریتے ہیں ہم سب اُنکی نظروں میں منفی سوچ کے مالک تب ہوتے ہیں جب ہم اُن کے استعمال میں نہیں رہتے ، اس زمانے کے لوگوں میں آپ اگر اپنے جسم کا لوتھڑا ،لوتھڑا بھی تقسیم کردو تو آپ سے راضی نہیں۔ 
ایسے نام نہاد لوگو ں کے دیۓ گہے دکھوں،دردوں پہ رونے سے بہتر ہے کہ آپ اپنی ذات کو وقت دیا جاۓ کیونکہ آپکے اندر کی آواز ایک ایسی آواز ہے جو ڈر ،جھوٹ اور منافقت سے پاک ہے ،ہمیں اپنے اندر کی آواز سناہی بھی دیتی ہے مگر ہم اس دنیا کو راضی کرنے میں اتنے مگن ہیں کہ ہم اپنی آواز کو دبا دیتے ہیں اور دُکھ درد ہمارے مقدر بن جاتے ہیں ۔ اپنے مَن کی آواز کو تقویت دیجیۓ۔ 
"میری کردار کشی کرنے والو،
خُدا ہم بھی رکھتے ہیں 
وہ الگ بات ہے کہ ہم ذرا چھپا کہ رکھتے ہیں"

No comments:

Post a Comment

power of your words