Tuesday, 24 April 2018

i am a woman (urdu version)


می ٹو
یہ ان چاہے ہاتھ
شجر ظلمت کی یہ شاخیں
گلگشت و گلزار ذات میں
بد روحیں جیسے
اتر آئی ہوں
یہ ہاتھ ہیں کہ
خلا و عدم و نیستی کے اوتار
میں مگر مہر بہ بلب
ان ہاتھوں کی 
بھگتی 
کرتی ہوں
جیسے چپ چاپ
کوڑے کھاتا
کوئی مویشی
'جدھر ہانکو ہنک جائیں رے'
مستک میں بیٹھے
احتساب کے فرشتے
مگر پوچھتے ہیں
کیا تم بھی انسان ہو؟
کیا تم بھی خاتون ہو؟
یہ سوال میں نے سنے
عدم و خلا و نیستی کی طرف
میرے بڑھتے قدم
تھم گئے
اب میں گونگی گڑیا نہیں
اب میں مہر بہ بلب نہیں
اب میں معدوم و نیست نہیں
اب میں بے سبب نہیں
اب میں بھی انسان ہوں
اب میں بھی خاتون ہوں

No comments:

Post a Comment

power of your words