راہ گیر بھی مغرور، سائیکل والا بھی مغرور، موٹر سائیکل والا بھی مغرور، کار والا بھی مغرور، اور پولیس والا بھی مغرور۔ ہر کوئی یہی سمجھتا ہے کہ ٹریفک کے قوانین دوسروں کے لیے بنے ہیں اور اس کے لیے ان قوانین کا احترام ضروری نہیں ہے۔ اور پھر جب ان بڑی بڑی اناوں کا سڑک پہ گھمسان ہوتا ہے، تو پھر حا دثے ہوتے ہیں۔ لیکن حادثوں کے بعد رویے تبدیل نہیں ہوتے۔ اپنی نخوت پر نگاہ ہی نہیں جاتی۔ اپنی غلطی کو فراموش کر دیا جاتا ہے۔ اور سارا الزام قسمت پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اور پھر سڑک پر اسی غرور و نخوت کا گھمسان شروع ہو جاتا ہے۔سڑک ہی نہیں، خارجہ پالیسی بھی اسی طور پہ چلائی جاتی ہے۔سارا دن تذلیل سہتے گزر جائے لیکن اک چٹکی میں امریکہ اڑا کے رکھ دیں گے۔ہم ایک خاص امت ہیں، ایک خاص قوم ہیں، اور میں ایک خاص فرد ہوں، میرا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے؟ شہری تو ہیں ہی نہیں، خلفا، ، امرا اور بادشاہ ہیں۔اب اتنی بڑی ہستیوں سے تو بات کرنا ہی دشوار ہے۔ پہلے کورنش بجا لائیں، پھر جوتے سیدھے کریں، پھر گھٹنے چھوئیں اور پھر پاوں پر ناک رگڑیں پھر بات ہو سکتی ہے۔ اتنی عظیم ہستیوں کو جاہل مولویوں اور جعلی پیروں کی نعلین برداری کرتے دیکھ کر حیرانی ہی ہوتی ہے۔ ارے حیران ہونے کی اتنی کیا ضرورت ہے؟بنیادی پیغام عجز نہیں، ذات کی نفی ہے اور ذات کی نفی اپنی انسانیت کی نفی ہے اور انسانیت کی نفی ہر اس چیز کی نفی کر دیتی ہے جس اس سے انسان کی بھلائی ہو۔ اس کا مطلب قانون اور اخلاقیات کی نفی ہے، محبت، ہمدردی، مہربانی کی نفی ہے۔ یہ مولوی اتنے سنگ دل اور بے رحم کیوں ہوتے ہیں؟ یہ ہم اجتماعی طور پر اتنے سنگ دل اور بے رحم کیوں ہیں؟ آپ شاید کہیں کہ ایسا نہیں، ہم تو بڑی مخیر قوم ہیں، لیکن شہری ترقی کے حوالے سے کوئی بھی عالمی فہرست اٹھا لیں، اس میں ہمارا درجہ ان مقامات پر ہے، جو شہری ترقی کے حوالے سے ناکامی اور نامرادی کے سنگ ہائے بیابان ہیں اور جو کبھی ان صحراوں میں کسی گلزار کا سنگ میل نصب کرے،ہم سنگ میل اکھاڑ دیتے ہیں اور اسے نفی کی قربان گاہ کی نذر کر دیتے ہیں۔ کبھی کشتنی قربانی، کبھی سوختنی قربانی۔ ہمارے فرد اور انسان ہونے کی نفی ہمارے تعلیمی نصاب کا حصہ ہے۔ ہمارے قوانین اس نفی کی آئینہ داری کرتے ہیں۔ مولانا مودودی بھی یہی کہتے ہیں، فیض صاحب بھی یہی فرماتے ہیں، علمائے کرام تو ہمیں گناہوں کی غلاظت سے نکلنے نہیں دیتے، اور پیسے بھی لے لیتے ہیں، صوفیا نذرو نیاز سے تو لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن انسان کا مقام ان کے ہاں کتوں سے بھی بدتر ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ سب کچھ کہاں لے جاتا ہے؟ نخوت میں مبتلا، اپنی عزت سے محروم افراد، جو محبت اور عقل دونوں سے بے صفت ہیں اور اس قدر خوفزدہ ہیں کہ سچی بات کر ہی نہیں سکتے۔ پتا نہیں ہماری ایسٹیبلشمنٹ ہمیں ایسا بے وقعت انسان کیوں بنانا چاہتی ہے؟ اور ہم سب اس ایسٹیبلشمنٹ کا کیوں ساتھ دیتے ہیں؟ کیا یہی انسانیت کی معراج ہے ؟ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ سب لوگ ایسے ہیں لیکن ہم صرف اتنا کہہ رہے ہیں کہ انسانیت کی نفی سے متعلق خیالات کے ایسے نتائج رونما ہوتے ہیں۔ اور پاکستان میں رہنے والوں میں سے شاید ہئ کوئی ایسا فرد یو جسے ان نتائج کا تجربہ نہ ہوا ہو۔ تو جن خیالات اور اعمال نے ہمیں بطور قوم نقصان ہی پہنچایا ہے، انھیں ترک کرنا ضروری ہے۔ قوموں کے ساتھ اس سے بھی برا ہوا ہے لیکن انھی قوموں نے اپنے اپنے شجر ظلمت سے نجات بھی حاصل کی ہے۔ ہم بھی اپنے اس شجر ظلمت کی سب شاخیں کاٹ سکتے ہیں۔ چیزیں حالات پر بھی منحصر ہوتی ہیں لیکن فیصلوں کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ہمارے خیال میں حالات کیسے
بھی ہوں، ایک اچھا اور مشکل فیصلہ تو موجود ہی رہتا ہے
No comments:
Post a Comment