یہ بے خُودی بے سبب نہیں ہے غالب
کچھ تو ہے تو جس کی پردہ داری ہے !
انسانی زندگی میں جہاں اور بہت سے مراحل آتے ہیں وہاں ایک مرحلہ انسان کی زندگی میں یہ بھی آتا ہے جب سارے لوگ اُس سے یہ گلہ یا اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں کہ یار بڑا عجیب سا بندہ ہے ملنا ملوانا چھوڑ دیا ہے اکیلا رہتا ہے بس ہم سے مطلب تھا تو ہمارے ساتھ رہا کرتا تھا اب شاہد کام نکل گیا ہے تو ہم سے مُنہ بھی لگانا پسند نہیں کرتا اور بے شمار باتیں مختصر یہ کہ جتنے منہ اُتنی ہی باتیں ، یہ سب باتیں اپنے اپنے ظرف کے مطابق منظرِ عام پہ اور چے مگوہیاں شروع ہوجاتی ہیں ۔
اس ساری تنہاہی کے تناظر میں ایک بات ہے کہ ایک نہ ایک دن ضرور ہر انسان کی زندگی میں آتا ہے کہ جب وہ بہت سی باتوں اور بہت سے چہروں کا مشاہدہ اپنی آنکھوں پہ بندھا ہوا دنیا داری کا پردہ اُتار کہ کرتا ہے اور بہت سی باتوں اور بہت سے چہروں کا ایک نیا رُخ سامنے آتا ہے اور بندہ ایک زندگی کا بہترین حصہ گُزار کہ اپنے مَن کیطرف متوجہ ہوتا ہے اپنے مَن کی آواز سنتا ہے اور لوگ اُسے مطلبی اور بہت کچھ سمجھنے لگ جاتے ہیں اب اس تنہاہی کے بھی دو تین رُخ ہوتے ہیں
عین ممکن ہے کہ وہ اپنے اب کی طرف متوجہ ہوجاۓ
عین ممکن ہے کہ وہ صحراؤں ،بیابانوں کیطرف مَن کے سکون کے لیے نکل جاۓ
یا عین ممکن ہے کہ وہ پاگل دیوانہ بن جاۓ
ان تمام ہونے والے واقعات میں ایمان کی کمزوری اور مضبوطی سراسر اپنا کردار ادا کرتی ہے
بقول میر
بے خودی لے گہئ کہاں ہم کو
دیر سے انتظار ہے اپنا ۔
بے خوُدی ایک پردہ ہے جو انسان کی آنکھوں سے تب ہی ہٹتا ہے جب انسان ان کی آواز کو سننے سے اور امرِ الہی سے ہی ہٹایا جاسکتا ہے ۔
No comments:
Post a Comment