حیرت کی بات ہے نا!!
آرمی پبلک سکول پشاور کی پرنسپل جو بچوں کو بچاتی بچاتی خود شہید ہو گئی
اسے کسی لبرل نے،کسی دانشور نے،کسی اینکر پرسن نے قوم کی بیٹی نہیں کہا
سوات میں اسکول کے بچوں کی جان بچانے کے لیے اپنی جان قربان کرنے والا اعتزاز حسن قوم کا بیٹا نہیں کہلایا
خودکش حملہ آور کو روکتے ہوئے جان دینے والے ایف سی اہلکار اور پولیس اہلکار کسی کھاتے میں نہیں
ہزاروں ماؤں کے لال جو سرحد کی حفاظت کرتے کرتے شہید ہو گئے،ان کا کوئی کردار نہیں
چکوال کا ایک فوجی جوان اکیلا 35 دہشتگردوں کو مارتا ہے،اسکے لیے کوئی اعزاز نہیں
ہزاروں پاکستانی جو بمب دھماکوں میں جان گنوا بیٹھے،انکی کوئی اہمیت نہیں
ہزاروں ایسے جوان جو وطن کے لیے اپنی زندگی راہ حق پر نچھاور کر گئے
ہزاروں ایسے جو وطن کی خاطر اپنے بیوی بچوں کو تنہا چھوڑ گئے۔انکو کسی نے کوئی خطاب یا اعزازی لقب نہیں دیا۔
کوئٹہ میں خود کش دھماکے کو روکنے والے ایس ایچ او کو کسی نے کوئی خطاب نہیں دیا۔
لیکن پیڈز اٹھا کر بے حیائی پھیلانے والی،اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے والی،احمدیت کو فروغ دینے والی،مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف بکواس کرنے والی سی آئی اے ایجنٹ ملالہ یوسفزئی پاکستان آئی ہے تو لنڈے کے لبرلز،دانشور حضرات،کٹھ پتلی حکمران سب کی اسکی راہ میں بچھے جا رہے ہیں۔
آخر کیوں؟
کیا ایک ملالہ ہمارے ہزاروں جوانوں پر بھاری ہے؟
یا آپکی غیرت ایک ملالہ کے سامنے بے بس ہو چکی ہے؟
No comments:
Post a Comment