Thursday, 19 April 2018

تماشائی


سن اے خرد مند، میں وہ ہوں جس نے قلاوزیوں کا عروج دیکھا۔زیر تعمیر مسجدوں کے چندے کے ڈبوں میں تخریب کے دھندے دیکھے۔وہ جو منت سماجت سے قربانی کی کھالیں جمع کرتے تھے، ان لوگوں کو میں نے انسانوں کی کھالیں کھینچتے دیکھا۔ وہ جو بھکاریوں کی طرح میلے کچیلے کپڑے پہنے گھر گھر در در گھومتے تھے انھیں ریشم و زربفت پہنتے ہوئے اور بیچتے ہوئے بھی دیکھا۔ اور جو دور دراز ملکوں میں بسنے والی خواتین کی حرمت کی دہائیاں دیتے تھے، انھیں پاس پڑوس سے لڑکیاں اٹھاتے اور ان لڑکیوں کو کنیزیں بناتے بھی دیکھا۔وہ جسے ہم احمق سمجھتے تھے اور اس پر قہقہے لگاتے تھے، بصد احترام اس کی حکمت کے گن گاتے دوستوں کو سنا اور اس احمق کو اپنی بے بسی پر مسکراتے دیکھا۔میں وہ ہوں جس نے قوت جنوں سے چیزیں تہہ و بالا ہوتی دیکھیں جن کے ملبے تلے میں نے اپنے دوستوں کو کراہتے دیکھا۔میں نے عشق کو خرد کو اس طرح ادھیڑتے دیکھا جیسے کتا رضائی کوادھیڑتا ہے اور یہ نظارہ دیکھ کر تیرے جیسے خرد مندوں کو اۤ ہیں بھرتے بھی دیکھا۔میں نے کھانا ٹھیک طرح سے نہ پکانے کی پاداش میں تندور میں جلتی ہوئی داڑھی بھی دیکھی اور رہبر شریعت کی بیوقوفی کا اشتہار بنی ہوئی چمکدار ریش مبارک بھی دیکھی۔
جہالت کی جاروب کش کو میں نے قصر تقدس پر مسند نشین بھی دیکھا۔میں نے جہالت کی آمد کی خوشی میں نے لوگوں کو رقصاں و شاداں بھی دیکھا۔میں نے راہزنوں کی تعظیم میں نعرے بھی لگائے، میں نے قاتلوں کی تکریم میں ان کے جوتے بھی اٹھائے لیکن اتنی سعادت مندی کے باوجود میں نے ہی کوڑے کھائے۔
میں نے پارسائی کو بے ندامت قانون اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑاتے دیکھا۔میں نے بدمعاشوں کو مجاہدین کہا اور جاہلوں کو طالبان۔اس عزت افزائی کا صلہ انھوں نے


میرے ہی شہر کے لوگوں کی قتل کی صورت میں دیا۔میں نے قلقلوں کے ٖغلغلے سنے اور بچوں کے لاشے دیکھے۔میں نے قلاوزیوں کو اپنی بدنیتی مقدس لفظوں اور ستم خیز اشعار میں چھپاتے ہوئے بھی دیکھا۔میں نے وہ جو کہتے تھے جنھیں روباہی نہیں آتی، انھیں گیدڑوں کی طرح بھی بھاگتے ہوئے دیکھا اور میں نے لوگوں کو بھاگتے ہوئے گیدڑوں کو داد شجاعت بھی دیتے ہوئے دیکھا۔میں نے نہتی خواتین کے قتل پر رقص شہامت بھی تماشا کیا۔میں نے دانش گاہوں سے سند یافتہ لوگوں کو بزدل قاتلوں کے گلے میں ہار ڈالتے ہوئے بھی دیکھا۔میں نے شیریں زبان رقاصوں کو وعظ میں مبتلا پایا۔میں نے اداکاراوں کے نقالوں کے سروں پر دستار فضلیت بھی سجی دیکھی۔میں نے بے بس لوگوں کے سر قلم کرتے وحشی بھی دیکھے۔میں نےصلاحیت فروشوں کو ان وحشیوں کے دسترخوان پر مودب تعریف فروشی کے کاروبار میں مگن پایا۔اب تو یہ سفاکی اتنی مقبول ہوتی جا رہی ہے کہ آنکھیں اکتا سی گئی ہیں۔ اے خرد تو میری آنکھیں نوچ ڈال کہ انسانیت کی مزید تذلیل دیکھ نہ پائیں لیکن تو یہ نہیں کر سکتا، تیری خرد مندی پر حرف آتا ہے۔ تیری خرد مندی کے پاس کچھ تدبیر نہیں رہی۔ نہ تو قلاوزیوں کا عروج روک سکتا ہے اور نہ میرے دکھوں کا درماں کر سکتا ہے۔پر تو بھی کیا کرے، تیری تو انھوں نے وہ گت بنائی ہے کہ خرد مندی پر تو ترس سا آنے لگتا ہے جیسے کسی لاغر گائے کو قصائی بھی ذبح کرنے سے شرما جاتے ہیں۔اور شاید قلاوزیوں کا زوال دیکھنا ہمارے مقدر میں نہیں ہے۔

No comments:

Post a Comment

power of your words