Wednesday, 18 April 2018

منزلیں اور سہارے



لہریں سمندر سے اُٹھتی ہیں کناروں سے نہیں
منزلیں ہمت سے ملتی ہیں  سہاروں سے نہیں
لہروں کا اور سمند ر کا دامن چولی کا ساتھ ہے ،لہریں ہیں تو سمندر اپنی شان و شوکت رکھتا ہے اور ایک ہیبت کا احساس دلاتا ہے ۔
منزلوں  اور سہاروں کا بھی کچھ حد تک ایسا ہی رشتہ ہے  اور لاشعور سے شعور سے کے سفر کے دوران سہاروں کا تناسب ہماری ضروریات کیمطابق کم یا  زیادہ ہوتا رہتا ہے اور کبھی کبھار کچھ مقامات پہ  پہنچ کہ سہاروں کی ضرورت شدت اختیار کر جاتی ہے اور کبھی کبھار ان سہاروں کو چھوڑ کہ اپنے پاؤں پہ  کھڑا ہونا ہی پڑتا ہے ۔ انسانی زندگی کا آغاز بھی سہاروں سے شروع ہوتا ہے بچے کو سہارے کی مدد سے اور امرِ الہی اے چلنا پھرنا اٹھنا بیٹھنا سکھایا جاتا ہے اور اک عرصہ تک اُسے سہارے پہ رکھا جاتا ہے اور پھر اکژ سہاروں پہ ہی اکتفا کرنے میں غنیمت جانتا ہے
انسانی زندگی میں جہاں ماں باپ کے سچے سہاروں نے مثبت کردار ادا کیا وہیں پہ سہاروں نے منفی اثرات بھی مرتب کیے ۔
ہمیں بچپن سے ہی سہاروں کا اتنا عادی بنا دیا جاتا ہے کہ ہم ساری زندگی سہاروں کو ہی اپنا سمجھ لیتے ہیں اور باوجود اپنی استطاعت کہ ہم کویئ بھی کا م سہارے کے بِنا سرانجام دینے سے قاصر ہوتے ہیں ۔
ہاں مگر اس دنیا میں اکژ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے ان تمام فانی اور جھوٹے سہاروں سے کنارہ کشی کی اور تنہا جان اپنی منزل کیطرف رواں دواں ہو گیے اور ایسے لوگو ں کے لیے کامیابیوں نے قدم چُومے ،اُنکی راہوں پہ کامیابیوں نے اپنی پلکیں بچھاہیں اور جو اُن افراد نے اپنی منازل کا تعین کیا تھا اُن پہ پہنچ کہ سکون کا سانس لیا لیکن ایسے افراد کی مثالیں چنداں ہیں ،
سہارے ڈھونڈنا اور سہاروں کی مدد سے منزلیں ڈھونڈنا اکژ وبیشتر ہمیں اپنی منزلوں سے دُور بھی دھکیل دیتا ہے اور باوجود استطاعت ہم اپنی طے شُدہ منازل سے اسلیے بھی دُور چلے جاتے ہیں کہ ہم نے اُن سہاروں کو اپنایا تھا  جو محض ایک جھوٹے سپنے اور دل کو تسلی دینے کی حد تک ہی تھے اور پھر اُس وقت تک اُن جھوٹے سہاروں نے ہماری صلاحیتوں پہ اتنا ظلم کردیا ہوتا ہے کہ ہم اپنی منزل سے بھی بھٹک جاتے ہیں اور ساری زندگی گِلے شکوے کا طوق ہمارے ہاں سینوں پہ لٹکا رہتا ہے ۔
اگر آپنے آگے اپنی منزل تک پہنچنا ہے تو یاد رکھنا آپنے اپنی منزل پہ خُود ہی پہنچنا ہوتا ہے ،اس دنیا کے سہارے اکژ دِھمک زدہ ،کچی، بے جان  لکڑی کی مانند ہوتے ہیں جو آپکو اپنی منزل پہ پہنچنے سے پہلے ہی آپکا ساتھ چھوڑ دیا کرتے ہیں۔ اپنی صلاحیتوں پہ اکتفا کیجیے اور اللہ کی مخلص ذات پہ تو منزلیں دُور نہیں جایا کرتیں۔۔۔

No comments:

Post a Comment

power of your words