Saturday, 28 April 2018

india and pakistan prime minister


گوگل کا CEO بھارتی (سندر پیچائی)
مائیکروسافٹ کا CEO بھارتی (ستیا ناڈیلا)
اڈوب کا CEO بهارتی (شانتو نرائن)
کوگزنیٹ کا سی ای او ، فرانسيسكو ڈی سو زا
نوکیا کا سی ای او ، راجیو سوری
گلوبل فاونڈیز کا سی ای او، سنجے کمار 
ہرمین انٹرنیشنل کا سی او، دنیش پالی وال
نیٹ ایپ کا سی ای او ، جورج کورین
پیسی کولا کی سی ای او، اندرا نوئے 
ماسٹر کارڈ کا سی ای او، اجے بانگا 
ڈی بی ایس کا سی ای او، پائیش گپتا 
ریکٹ بینکیزئر کا سی ای او، راکیش کپور
سی ای او کسی بھی کمپنی کا سب سے بڑا عہدہ ہوتا ہے- 
اسکے علاوہ کئی ہندو لوگ نائب سی ای او اور ڈائریکٹر جنرل کے عہدوں پر فائز ہیں-
لیکن ہمارے 22 کروڑ کے ہجوم کو ان باتوں سے کیا دلچسپی 
؟
جس کی فی کس قیمت پانچ دس یا بیس ہزار روپے یا صرف ایک قیمے والے نان ہوگی- 
وہ نا صرف آلو یا چاند پر اللہ اور محمد کا نام ڈهونڈے گی بلکہ اس پیغام کو دس لوگوں سے شیئر کرنے پر آپکو جنت کی نوید بھی سنا دے گی
میاں نواز شدیف کا دوسرا دور حکومت تھا ہمارے ملک کے اک بڑے بزنس مین کے بیٹے کو امریکہ میں معلوم ہوا کہ مائیکروسافٹ کے مالک بل گیٹس پینتیس ملین ڈالر کی لاگت سے کسی ایشیائی ملک میں مائیکروسافٹ یونیورسٹی ایڈوانس ٹیکنالوجی لیب بنانا چاہتے ہیں اور ان کا نظر انتخاب پاکستان ہے مگر امریکہ میں موجود بھارتی لابی اس پروگرام کو بھارت لے جا رہی ہے تو اس نوجوان نے وطن کی محبت میں متحرک ہونے کا فیصلہ کیا اور مائکروسافٹ کے ایشائی ٹیم کے لیڈر سے بات کی کہ یہ منصوبہ پاکستان کو ہی ملنا چاہییے اس پر ٹیم لیڈر نے کہا کہ پاکستان میں چونکہ نقل سازی عام ہے اور پائیریسی کے متعلق کوئی موثر قانون سازی بھی نہیں کی گئی لہذا اگر پاکستان تحریری ضمانت دے کہ پائیریسی کے حوالے سے قانون سازی کی جائے گی تو ہم یہ یونیورسٹی پروگرام پاکستان میں لانچ کر سکتے ہیں نوجوان خوشی خوشی اک مہینے کا ٹائم لے کر پاکستان چلا آیا کہ یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں
مگر نوجوان جب پاکستان پہنچ کر حکومتی دروازوں پر پہنچا تو معلوم پڑا کہ اپنے وزیراعظم کے پاس ملاقات کا وقت نہیں ہے وزیروں کے پاس بھی فرصت نہیں تھی کہ اک غیر ملکی کو تحریری ضمانت دیتے پھریں بیوروکریسی کو تو ویسے ہی ملکی مفاد کے منصوبوں سے دلچسپی نہیں تھی انہیں تو بڑے صاحب کے باتھ روم کی تزین و آرائش اور لاہور والے گھر جیسا شاور ڈھونڈنے کی ٹینشن تھی 
خیر ہفتہ دس دن کی دوڑ دھوپ کے بعد یہ نوجوان وفاقی وزیر ہمایوں اختر سے ملنے میں کامیاب ہو گیا تمام معاملہ سن کر ہمایوں اختر نے کہا کہ وفاقی وزیر احسن اقبال سے ملو اس پروجیکٹ کی متعلقہ وزارت کا قلمدان احسن اقبال کے پاس ہیں مزید کچھ دن خوار ہونے کے بعد احسن اقبال سے ملاقات ممکن ہوئی نوجوان نے بصد ادب تمام معاملہ گوش گزار کیا جسے سن کر وزیر صاحب موصوف نے فرمایا اگر بل گیٹس مجھے خط لکھے تو پھر یہ گارنٹی دی جا سکتی ہے
اب بندہ پوچھے کہ دنیا کا امیر ترین بندہ اگر پاکستان جیسے غریب ملک کو مفت میں اک انتہائی اہم یونیورسٹی دینا چاہتا ہے درخواست کرنے کی پوزیشن میں آپ ہیں یا وہ
اس کو کیا پڑی ہے کہ وہ خط لکھ کر قانون سازی کے متعلق درخواستیں کرے یہ اس کا کام ہے یا آپ کا
مگر وزیر صاحب نے نخوت بھرے لہجے میں یہ کہہ کر بات ہی ختم کر دی کہ ہمیں سکھانے کی بجائے وہ کرو جو کہا گیا ہے
بے عزتی کرانے کے باوجود نوجوان چین سے نہ بیٹھا کیونکہ وہ اس منصوبے کی اہمیت سے آگاہ تھا مزید کچھ دن خوار ہونے کے بعد اسے اک خط دیا گیا جس میں اک ڈرائیکٹر صاحب نے بل گیٹس کو حکم دیا ہوا تھا کہ جونہی یہ خط ملے تو فوراً حاضر ہو جائیں تاکہ آپ کی درخواست پر ہمدردانہ غور کیا جائے
اب نوجوان کی ہمت جواب دے گئی یہ خط آج بھی اس نوجوان کے پاس موجود ہے ذرا سوچیں اگر یہ خط بل گیٹس کو دے دیا جاتا تو وہ ہمارے متعلق کیا سوچتا
نوجوان تو تھک ہار کر بیٹھ گیا مگر انڈین لابی متواتر کوششوں میں لگی رہی اور جب انہیں معلوم پڑا کہ اب لوہا گرم ہے تو اپنے بھارتی وزیر اعظم سے بل گیٹس کو فون کروا دیا جس نے نہ صرف ہر قسم کی ضمانت دینے کا وعدہ کیا بلکہ بل گیٹس کو بھارت آ کر خود اس کا افتتاح کرنے کی دعوت بھی دے ڈالی پھر دو ماہ بعد بل گیٹس نے بھارت جا کر نہ صرف یہ پروگرام لانچ کیا بلکہ سافٹ وئیر کی تعلیم کے لئے سو ملین ڈالر سالانہ دینے کا بھی اعلان کیا
بھارتیوں کے دن پھرے صرف دس سال کے قلیل عرصے میں ساڑھے دس لاکھ بھارتی امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہےتھے بلکہ اکیلے بھارتی شہر بنگلورو کی سالانہ آئی ٹی ایکسپورٹ اسی ہزار کروڑ ہو گئی
امریکیوں کے بعد سب سے گوگل استعمال کرنے والے ہندوستانی آج مائیکروسوفٹ اور دیگر بڑی آئی ٹی کمپنیوں میں سی ای او سمیت دوسرے کلیدی عہدوں پر براجمان ہیں اور ان کمپنیز کے لیے بھارتیوں کو جاب دینا مجبوری بن چکا یے وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے بھارتیوں کو جاب نہ دی تو اک سال میں بھارتی ماہرین ہم سے بھی بڑی آئی ٹی کمپنیز کھڑی کر دیں گے اب بھی اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف اور ان کی تجربہ کار ٹیم پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں تو یہ صرف آپ کی خوش فہمی ہی ہے۔

بے خودی

یہ بے خُودی بے سبب نہیں ہے غالب
کچھ تو ہے تو جس کی پردہ داری ہے !
انسانی زندگی میں جہاں اور بہت سے مراحل آتے ہیں وہاں ایک مرحلہ انسان کی زندگی میں یہ بھی آتا ہے جب سارے لوگ اُس سے یہ گلہ یا اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں کہ یار بڑا عجیب سا بندہ ہے ملنا ملوانا چھوڑ دیا ہے اکیلا رہتا ہے بس ہم سے مطلب تھا تو ہمارے ساتھ رہا کرتا تھا اب شاہد کام نکل گیا ہے تو ہم سے مُنہ بھی لگانا پسند نہیں کرتا اور بے شمار باتیں مختصر یہ کہ جتنے منہ اُتنی ہی باتیں ، یہ سب باتیں اپنے اپنے ظرف کے مطابق منظرِ عام پہ اور چے مگوہیاں شروع ہوجاتی ہیں ۔
اس ساری تنہاہی کے تناظر میں ایک بات ہے کہ ایک نہ ایک دن ضرور ہر انسان کی زندگی میں آتا ہے کہ جب وہ بہت سی باتوں اور بہت سے چہروں کا مشاہدہ اپنی آنکھوں پہ بندھا ہوا دنیا داری کا پردہ اُتار کہ کرتا ہے اور بہت سی باتوں اور بہت سے چہروں کا ایک نیا رُخ سامنے آتا ہے اور بندہ ایک زندگی کا بہترین حصہ گُزار کہ اپنے مَن کیطرف متوجہ ہوتا ہے اپنے مَن کی آواز سنتا ہے اور لوگ اُسے مطلبی اور بہت کچھ سمجھنے لگ جاتے ہیں اب اس تنہاہی کے بھی دو تین رُخ ہوتے ہیں
عین ممکن ہے کہ وہ اپنے اب کی طرف متوجہ ہوجاۓ
عین ممکن ہے کہ وہ صحراؤں ،بیابانوں کیطرف مَن کے سکون کے لیے نکل جاۓ
یا عین ممکن ہے کہ وہ پاگل دیوانہ بن جاۓ
ان تمام ہونے والے واقعات میں ایمان کی کمزوری اور مضبوطی سراسر اپنا کردار ادا کرتی ہے
بقول میر
بے خودی لے گہئ کہاں ہم کو
دیر سے انتظار ہے اپنا ۔
بے خوُدی ایک پردہ ہے جو انسان کی آنکھوں سے تب ہی ہٹتا ہے جب انسان ان کی آواز کو سننے سے اور امرِ الہی سے ہی ہٹایا جاسکتا ہے ۔

Wednesday, 25 April 2018

janat(paradise) for sale

کیسے عجیب مسلمان ہیں ہم اب جنت ہم اپنے میسجیز میں بیچتے ہیں اور ساتھ یہ بھی لکھتے ہیں کہ محبت تو اس کو پیھلا ہیں یہ میسج فارورڈ نہ کیا تو سات سال تک آپکی قسسمت آپسے ناراض رہے کی فلاں فلاں۔ ۔ ۔ چاہے کوہی بھی مہینہ ہو لوگ پوسٹ لگا دیتے ہیں کہ نبی پاک نے فرمایا تھا کہ جو اس مہینے کی ضبر سب سے پہلے کسی کو دے گا وہ جنتی ہوگا ۔ جسنے رمضان کی خبر سب سے پہلے کسی کو دی اُسنے جنت میں گھر بنا لیا ۔۔۔۔ اگر ایسا ہی ہوتا تو پھر شاہد خُدا نہ تو قرآن نازل کرتا نہ کچھ اور ۔ اور بس یہی فرماتا کہ آپ سبکو جنت میسجز فارورڈ کرنے کی بنیا د پہ ہی ملے گی ۔۔ افسوس ہے مجھے کہ ہم اتنے گِر چکے ہیں !!! 

Tuesday, 24 April 2018

a letter of a transgender before death




ماں جی
میری عمر نو دس برس کی تھی جب ابا نے مجھے زمین پر گھسیٹتے ہوئے گھر سے بے گھرکر دیا تھا۔ میں چیخ چیخ کر تمہیں پکارتا رہا مگر تم بےحس وحرکت سہمی ہوئی مجھے تکتی رہیں۔ واحد روانی تمہارے آنسوؤں کی تھی جو ابا کے غیض و غضب کے آگے بھی تھمنے کو تیار نہ تھے۔ تمہارا ہر آنسو اس بات کا ثبوت تھا کہ تم ابا کے اس فعل سے بہت نالاں تھی مگر ابا کی ہر بات پر سر تسلیم خم کرنے پر مجبور بھی۔
محلے والوں کے طعنے، رشتے داروں کے طنز اور لوگوں کی چبھتی ہوئی نگاہوں سے جب ابا بے قابو ہو جاتے تو پھر اپنی کالے چمڑے کی چپل سے میری چمڑی ادھیڑتے۔ اپنے جسم پر چپل سے بنائے گئے نقش لیے میں اس کال کوٹھڑی کی جانب بھاگتا جو پورے گھر میں میری واحد پناہ گاہ بن گئی تھی۔ پٹائی کا دن جب رات میں ڈھلتا تو تم ابا سے چھپ کر دبے پاؤں آتیں۔ مجھے سینے سے لگاتی، اپنے دوپٹے سے میرے زخموں کی ٹکور کرتی۔ میرا سر اپنی گود میں لیے گھنٹوں میرے پاس بیٹھی رہتی۔ مجھے چپ کراتے کراتے تمہاری اپنی سسکیاں بندھ جاتیں۔ آہوں اور سسکیوں کی گونج کے علاوہ اس کال کوٹھڑی میں کچھ سنائی نہ دیتا۔ ہم دونوں آنسوؤں کی زبان میں بات کرتے۔ میرے آنسوؤں میں ان گنت سوال ہوتے۔ کہ آخر کیوں ابا کی نفرت کی خاص عنایت مجھ پر ہی ہے؟ آخر کیوں گھر میں مہمانوں کے آتے ہی اسٹور کے تنگ وتاریک کمرے میں گھر کے ہر فالتو سامان کے ساتھ مجھے بند کردیا جاتا ہے اور جب تک اللہ کی رحمت ہمارے گھر سے چلی نہیں جاتی مجھے رہائی کا پروانہ کیوں نہیں دیا جاتا۔ یہ رحمت ہر بار میرے لیے زحمت کیوں بن جاتی ہے؟ مگر اماں میرے ہر سوال کے جواب میں تم خاموشی سے میرے اوپر محبت بھری نگاہ ڈالتی اور کچھ نہ بولتیں۔ بس کبھی تم میرے ماتھے کا بوسہ لیتی اور کبھی میرے ہاتھوں کو چوم کر اس بات کی گواہی دیتی کہ میں تو اپنے راجہ بیٹے سے بہت پیار کرتی ہوں۔ ایک سوال کرتے کرتے میں تھک جاتا اور نیند کی آغوش میں چلا جاتا کہ آخر میرے سے ایسی کیا خطا ہوئی جو میں اپنے دوسرے بہن بھائیوں کی طرح ابا کے پیار کا حقدار نہیں۔
ہاں تمہاری گود میں سو جانے سے پہلے میں یہ دعا بھی کرتا کہ یہ رات کبھی ختم نہ ہو مگر صبح ہوتی اور تم پھر اس عورت کا لبادہ اوڑھ لیتی جو ابا اور معاشرے کے خوف سے مجھے پیار کرتے ڈرتی تھی۔
جس دن ابا نے مجھے گھر سے نکالا اس دن میرا قصور بس اتنا تھا کہ میں نے تمہاری سنگھار میز پر رکھی ہوئی لالی سے اپنے ہونٹ رنگ لیے تھے، تمہارا سرخ دوپٹہ سر پر رکھے، تمہارے ہاتھوں کے کنگن اپنی کلائی میں ڈالے تمہاری ٹک ٹک کرنے والی جوتی پہن کرخوش ہو رہا تھا، بس یہ دیکھنے کی دیر تھی کہ ابا نے مجھ پر پھر جوتوں کی برسات شروع کر دی۔ میں معافی کا طلب گار رہا مگر میری شنوائی نہ ہوئی اور پھرگالی گلوچ کرتے ہوئے زمین پر گھسیٹتے ہوئے زنخا زنخا کہتے ہوئے مجھے ہمیشہ کے لیے سب گھر والوں سے دور کر دیا۔
میرے لیے آبا کے آخری الفاظ یہ تھے کہ آج سے تو ہمارے لیے مر گیا۔ یہ جملہ سنتے ہی میری ہاتھوں کی گرفت جس نے ابا کے پیروں کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا کمزور پڑ گی۔ میری گڑگڑاتی ہوئی زبان خاموش ہوگی، میرے آنسو تھم گئے کیونکہ میں جانتا تھا کہ ابا اپنی کہی ہوئی بات سے کبھی نہیں پھرتے۔ اور تم ماں، ابا کے کسی بھی فیصلے کے خلاف جانے کی ہمت نہیں رکھتی
اس کے بعد ابا مجھے ہمیشہ کے لیے یہاں چھوڑ گے جہاں ایک گرو رہتا تھا۔ امجد کی جگہ میرا نام علیشاہ رکھ دیا گیا۔ مجھے ناچ گانےکی تربیت دی جاتی۔ مجھ پر نظر رکھی جاتی لیکن میں جب کبھی موقع ملتا تمہاری محبت میں گرفتار اپنے گھر کی طرف دیوانہ وار بھاگتا مگر ابا کا آخری جملہ مجھے دہلیز پار کرنے سے روک دیتا۔ دروازے کی اوٹ سے جب تمہیں گرما گرم روٹی اتارتے دیکھتا تو میری بھوک بھی چمک جاتی اور پھر تم اپنے ہاتھوں سے نوالے بنا بنا کر میرے بہن بھائیوں کے منہ میں ڈالتی تو ہر نوالے پر میرا بھی منہ کھلتا مگر وہ نوالے کی حسرت میں کھلا ہی رہتا۔ اس حسرت کو پورا کرنے کے لیے میں اکثر گھر کے باہر رکھی ہوئی سوکھی روٹی کو اپنے آنسوؤں میں بھگو بھگو کر کھاتا۔
بعد کی عیدیں تو تنہا ہی تھیں پر جب گھر بدر نہ ہوا تھا تب بھی عید پر جب ابا ہر ایک کے ہاتھ پر عیدی رکھتے تو میرا ہاتھ پھیلا ہی رہ جاتا۔ جب ہر بچے کی جھولی پیار اور محبت سے بھر دی جاتی تو میری جھولی خالی ہی رہ جاتی۔ جب ابا اپنا دست شفقت سب کے سروں پر پھیرتے تو میرا سر جھکا ہی رہتا۔
صحن میں کھڑی ابا کی سائیکل جس کو اکثر میں محلے سے گزرتے دیکھتا تو ہر بار دل میں یہ خواہش ہوتی کہ کاش ابا سائیکل روک کر مجھے ایک بار، صرف ایک بار سینے سے لگا لیں مگر میری یہ خواہش، خواہش ہی رہ گی۔ گھر چھوڑنے کے عذاب کے بعد میرے اوپر ایک اور عذاب نازل ہوا جس کے کرب نے میری روح تک کو زخمی کر دیا۔ چند ‘شرفا’ گرو کے پاس آئے اور مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ مجھے زبردستی بے لباس کیا اور اپنی ہوس کی بھینٹ چڑھا ڈالا۔ ماں، میں اتنا چھوٹا اور کمزور تھا کہ میں تکلیف کی وجہ سے اپنے ہوش ہی کھو بیٹھا تھا۔ پھر اس ہی بے ہوشی کے عالم میں مجھے گرو کے حوالے کر دیا گیا۔ پھر یہ سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ میں روز ہی اپنی ہی نظروں میں گرتا رہا مرتا رہا۔ کرتا بھی کیا کہ اب میرے پاس کوئی اور دوسری پناہ گاہ نہ تھی۔
پھر اسی کام کو میرے گرو نے میرے پیشے کا نام دے دیا۔ میں گرو کے پاس سے کئی بار بھاگا، در در نوکری کی تلاش میں پھرتا رہا مگر مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ ہر بار گرو کے در پر ہی پناہ ملی۔
ہمارا وجود معاشرے میں گالی سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں تو کسی کو بددعا بھی دینی ہو تو ہم کہتے ہیں کہ جا تیرے گھر بھی مجھ جیسا پیدا ہو۔ حالانکہ ہماری رگوں میں بھی سرخ رنگ کا خون دوڑتا ہے۔ ہمیں بنانے والا بھی تو وہی ہے جس نے ان کو پیدا کیا۔ ان کے سینے میں بھی دل ہماری طرح ہی دھڑکتا ہے۔ تو پھر ہمیں کس بات کی سزا دی جاتی ہے ؟ہمارا جرم کیا ہوتا ہے؟ شاید ہمارا جرم یہ ہوتا ہے کہ ہمارا خون سرخ ہے اور معاشرے کا سفید۔
ماں میں ساری زندگی جینے کی چاہ میں مرتا چلا گیا۔ سفید خون رکھنے والے لوگ کبھی مذہب کی آڑ لے کر تو کبھی جسم فروشی سے انکار پر ہمارے جسموں میں گولیاں اتار دیتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، مجھے بھی گولیاں ماری گئیں۔ جب مجھے ہوش آیا تو ڈاکٹر مجھے امید کی کرن دکھانے کی کوشش میں آہستہ آہستہ میرے کان میں سرگوشی کر رہا تھا کہ اگر تم ہمت کرو تو زندگی کی طرف لوٹ سکتے ہو۔ میں نے بہت مشکل سے اپنے ہونٹوں کو جنبش دی اور ڈاکٹر سے کہا کہ اگر میں ہمت کر کے لوٹ بھی آیا تو کیا مجھے جینے دیا جائے گا؟ جب ملک الموت میرے پاس آیا تو میں نے اس سے جینے کے لیے چند لمحوں کی درخواست کی۔ نجانے کیوں اس بار مجھے امید تھی کہ تم دوڑی چلی آؤ گی، میرا بچہ کہتے ہوئے مجھے اپنے سینے سے لگاو گی۔ میرے سر کو اپنی گود میں رکھ کر میرے زخموں کی ٹکور کر کے مجھے اس دنیا سےرخصت کرو گی۔ لیکن موت کے فرشتے نے چند لمحوں کی مہلت بھی نہ دی۔
سنا ہے قیامت کے روز بچوں کو ماں کےحوالے سے پکارا جائے گا۔ بس ماں تم سے اتنی سی التجا ہے کہ اس دن تم مجھ سے منہ نہ پھیرنا۔
تمہاری محبت کا طلبگار
تمہارا بیٹا

i am a woman (urdu version)


می ٹو
یہ ان چاہے ہاتھ
شجر ظلمت کی یہ شاخیں
گلگشت و گلزار ذات میں
بد روحیں جیسے
اتر آئی ہوں
یہ ہاتھ ہیں کہ
خلا و عدم و نیستی کے اوتار
میں مگر مہر بہ بلب
ان ہاتھوں کی 
بھگتی 
کرتی ہوں
جیسے چپ چاپ
کوڑے کھاتا
کوئی مویشی
'جدھر ہانکو ہنک جائیں رے'
مستک میں بیٹھے
احتساب کے فرشتے
مگر پوچھتے ہیں
کیا تم بھی انسان ہو؟
کیا تم بھی خاتون ہو؟
یہ سوال میں نے سنے
عدم و خلا و نیستی کی طرف
میرے بڑھتے قدم
تھم گئے
اب میں گونگی گڑیا نہیں
اب میں مہر بہ بلب نہیں
اب میں معدوم و نیست نہیں
اب میں بے سبب نہیں
اب میں بھی انسان ہوں
اب میں بھی خاتون ہوں

Monday, 23 April 2018

پاکستان میں بڑھتی ہوہی جسم فروشی


پاکستان میں ایک سروے کے مطابق تقریبا 27 لاکھ عورتیں جسم فروشی کا کاروبار کرتی ہیں اور ان میں کچھ تو پیشہ ور ہیں لیکن 90 فیصد ٖٖٖغربت اور اپنے گھریلو حالات کی وجہ سے اس کام میں ملوث ہیں ۔ ۔ ۔ آہیۓ سوچیۓ زرا کیا ہم اتنے ہی بے ضمیرِ ہو چکے ہیں کہ بنتِ حوا آج اپنے حالات سے تنگ آکر ان کاموں پہ اُتر آہی ہے اور ہم دُور کھڑے کسی بھوکے کتے کی مانند رالیں ٹپکاتے ہیں اور پھر نام نہاد مسلمان بن کہ اپنی ہی ہوس وہاں بجھانے چلے آتے ہیں ۔ ۔ ۔ انسان کہلوانا چھوڑ دیا جاۓ یا اپنی حوس کو اور سوسایٹی میں اُن لوگوں کے لیے کچھ ضرور کچھ کیجیۓ جو بلآخر ہم جیسوں کے رویوں سے تنگ آ کر وہ کام کرتے ہیں جہاں انسانیت بھی منہ چپھاتی ہے اور ہم اپنی ہوس بجھاتے ہیں ۔ ۔ ۔ روشنی کا سبب بنیۓ۔ ۔ ۔ اندھییرے کا نہیں ۔ ۔ ۔ ۔

Sunday, 22 April 2018

jamat e islami

جماعت اسلامی بھی ایسی برقعہ پوش ہے جس نے برقعے میں اے کے 47 چھپانے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ اب تو پورے محلے کو پتا ہے لیکن برقعہ پوش پھر بھی کوشش کرتی رہتی ہے کہ کسی کو پتا نہ چلے۔

sharif family of Pakistan and their situation


Sharif family in the end had to suffer all those evil tactics they used against others.
They supported military establishment against others.They had to suffer that.
They used religion for power and money purposes. The religion was used against them for power and money purposes.
They used laws to hurt and harm others. The laws were also used to hurt and harm them.
They used democracy for anti democracy designs. They had to suffer anti democracy in democratic disguise.
They were into illegal summery dismissals and they had to suffer illegal summery dismissals.
If you give good and you might end up with evil.You moan about it.If your soul is intact, you have the biggest consolation of a clear conscience but if you give evil and get evil,you have no real thing to fall back upon.
It is an Indian movie style thing where the audience likes the villains are being humiliated because in the first part they have seen the villains humiliating the good guys.
But you can't build a civilized society on an eternal repetition of a cheap Bollywood movie.
Like love, justice is not about humiliation. Justice is about reassuring the society that justice is about reason and evidence.
It is not Singham or Dabang( Bollywood Movies) style of a fancy job.It is hard work.
Again, Sharif were there for a long time.They could have done something about bringing justice closer to reason and evidence but they were busy in bribing the judges to temper the evidence against their political opponents and attacking the supreme court.
Who could forget the dismay and distaste when a tin pot tele anchor was attacking the court?
Still if they demand a fair trial, it is their right and the court has to respect this right.That is a difference between the court and the accused.If the court cannot keep that difference, it is another repetition of a cheap Bollywood movie.

Saturday, 21 April 2018

کچی عمر کا پیار

کچی عمر کا پیار
یوں تو پیار ہم سبکو زندگی کے ہر موڑ پہ ہوتا ہے خواہ دیرپا ہو یا چند لمحات کیلیے ہو ہمیں ہو ہی جاتا ہے لیکن صرف اپنی آنکھوں کی تسکین کے لیے یا دل کو کچھ دیر راضی کرنے کیلیے ۔ عمر کی پختگی کے ساتھ ساتھ پیار بھی اپنے مطلب اپنے جذبات کو بدلتا رہتا ہے ۔ لیکن کچی عمر کا پیار میں اور پکی عمر کے پیار میں زمین آسمان کا فرق ہے کچی عمر کا پیار کچی ٹہنیوں کی مانند ہوتا ہے اور کچی ٹہنیاں کبھی دیرپا مضبوط ثابت نہیں بھی ہوتی اور یونہی ہمارا کچی عمر کا پیار بھی وقت کی تبدلیوں کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے ، کچی ٹہنیاں جو کبھی تتلی کے بیٹھنے سے جھک جایا کرتی تھیں آج اُنہی ٹہنیوں پہ پرندوں کے غول بیٹھتے ہیں

Thursday, 19 April 2018

ملالہ اور ہماری غیرت

حیرت کی بات ہے نا!!
آرمی پبلک سکول پشاور کی پرنسپل جو بچوں کو بچاتی بچاتی خود شہید ہو گئی
اسے کسی لبرل نے،کسی دانشور نے،کسی اینکر پرسن نے قوم کی بیٹی نہیں کہا

سوات میں اسکول کے بچوں کی جان بچانے کے لیے اپنی جان قربان کرنے والا اعتزاز حسن قوم کا بیٹا نہیں کہلایا
خودکش حملہ آور کو روکتے ہوئے جان دینے والے ایف سی اہلکار اور پولیس اہلکار کسی کھاتے میں نہیں
ہزاروں ماؤں کے لال جو سرحد کی حفاظت کرتے کرتے شہید ہو گئے،ان کا کوئی کردار نہیں
چکوال کا ایک فوجی جوان اکیلا 35 دہشتگردوں کو مارتا ہے،اسکے لیے کوئی اعزاز نہیں
ہزاروں پاکستانی جو بمب دھماکوں میں جان گنوا بیٹھے،انکی کوئی اہمیت نہیں
ہزاروں ایسے جوان جو وطن کے لیے اپنی زندگی راہ حق پر نچھاور کر گئے
ہزاروں ایسے جو وطن کی خاطر اپنے بیوی بچوں کو تنہا چھوڑ گئے۔انکو کسی نے کوئی خطاب یا اعزازی لقب نہیں دیا۔
کوئٹہ میں خود کش دھماکے کو روکنے والے ایس ایچ او کو کسی نے کوئی خطاب نہیں دیا۔
لیکن پیڈز اٹھا کر بے حیائی پھیلانے والی،اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے والی،احمدیت کو فروغ دینے والی،مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف بکواس کرنے والی سی آئی اے ایجنٹ ملالہ یوسفزئی پاکستان آئی ہے تو لنڈے کے لبرلز،دانشور حضرات،کٹھ پتلی حکمران سب کی اسکی راہ میں بچھے جا رہے ہیں۔
آخر کیوں؟
کیا ایک ملالہ ہمارے ہزاروں جوانوں پر بھاری ہے؟
یا آپکی غیرت ایک ملالہ کے سامنے بے بس ہو چکی ہے؟

تماشائی


سن اے خرد مند، میں وہ ہوں جس نے قلاوزیوں کا عروج دیکھا۔زیر تعمیر مسجدوں کے چندے کے ڈبوں میں تخریب کے دھندے دیکھے۔وہ جو منت سماجت سے قربانی کی کھالیں جمع کرتے تھے، ان لوگوں کو میں نے انسانوں کی کھالیں کھینچتے دیکھا۔ وہ جو بھکاریوں کی طرح میلے کچیلے کپڑے پہنے گھر گھر در در گھومتے تھے انھیں ریشم و زربفت پہنتے ہوئے اور بیچتے ہوئے بھی دیکھا۔ اور جو دور دراز ملکوں میں بسنے والی خواتین کی حرمت کی دہائیاں دیتے تھے، انھیں پاس پڑوس سے لڑکیاں اٹھاتے اور ان لڑکیوں کو کنیزیں بناتے بھی دیکھا۔وہ جسے ہم احمق سمجھتے تھے اور اس پر قہقہے لگاتے تھے، بصد احترام اس کی حکمت کے گن گاتے دوستوں کو سنا اور اس احمق کو اپنی بے بسی پر مسکراتے دیکھا۔میں وہ ہوں جس نے قوت جنوں سے چیزیں تہہ و بالا ہوتی دیکھیں جن کے ملبے تلے میں نے اپنے دوستوں کو کراہتے دیکھا۔میں نے عشق کو خرد کو اس طرح ادھیڑتے دیکھا جیسے کتا رضائی کوادھیڑتا ہے اور یہ نظارہ دیکھ کر تیرے جیسے خرد مندوں کو اۤ ہیں بھرتے بھی دیکھا۔میں نے کھانا ٹھیک طرح سے نہ پکانے کی پاداش میں تندور میں جلتی ہوئی داڑھی بھی دیکھی اور رہبر شریعت کی بیوقوفی کا اشتہار بنی ہوئی چمکدار ریش مبارک بھی دیکھی۔
جہالت کی جاروب کش کو میں نے قصر تقدس پر مسند نشین بھی دیکھا۔میں نے جہالت کی آمد کی خوشی میں نے لوگوں کو رقصاں و شاداں بھی دیکھا۔میں نے راہزنوں کی تعظیم میں نعرے بھی لگائے، میں نے قاتلوں کی تکریم میں ان کے جوتے بھی اٹھائے لیکن اتنی سعادت مندی کے باوجود میں نے ہی کوڑے کھائے۔
میں نے پارسائی کو بے ندامت قانون اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑاتے دیکھا۔میں نے بدمعاشوں کو مجاہدین کہا اور جاہلوں کو طالبان۔اس عزت افزائی کا صلہ انھوں نے


میرے ہی شہر کے لوگوں کی قتل کی صورت میں دیا۔میں نے قلقلوں کے ٖغلغلے سنے اور بچوں کے لاشے دیکھے۔میں نے قلاوزیوں کو اپنی بدنیتی مقدس لفظوں اور ستم خیز اشعار میں چھپاتے ہوئے بھی دیکھا۔میں نے وہ جو کہتے تھے جنھیں روباہی نہیں آتی، انھیں گیدڑوں کی طرح بھی بھاگتے ہوئے دیکھا اور میں نے لوگوں کو بھاگتے ہوئے گیدڑوں کو داد شجاعت بھی دیتے ہوئے دیکھا۔میں نے نہتی خواتین کے قتل پر رقص شہامت بھی تماشا کیا۔میں نے دانش گاہوں سے سند یافتہ لوگوں کو بزدل قاتلوں کے گلے میں ہار ڈالتے ہوئے بھی دیکھا۔میں نے شیریں زبان رقاصوں کو وعظ میں مبتلا پایا۔میں نے اداکاراوں کے نقالوں کے سروں پر دستار فضلیت بھی سجی دیکھی۔میں نے بے بس لوگوں کے سر قلم کرتے وحشی بھی دیکھے۔میں نےصلاحیت فروشوں کو ان وحشیوں کے دسترخوان پر مودب تعریف فروشی کے کاروبار میں مگن پایا۔اب تو یہ سفاکی اتنی مقبول ہوتی جا رہی ہے کہ آنکھیں اکتا سی گئی ہیں۔ اے خرد تو میری آنکھیں نوچ ڈال کہ انسانیت کی مزید تذلیل دیکھ نہ پائیں لیکن تو یہ نہیں کر سکتا، تیری خرد مندی پر حرف آتا ہے۔ تیری خرد مندی کے پاس کچھ تدبیر نہیں رہی۔ نہ تو قلاوزیوں کا عروج روک سکتا ہے اور نہ میرے دکھوں کا درماں کر سکتا ہے۔پر تو بھی کیا کرے، تیری تو انھوں نے وہ گت بنائی ہے کہ خرد مندی پر تو ترس سا آنے لگتا ہے جیسے کسی لاغر گائے کو قصائی بھی ذبح کرنے سے شرما جاتے ہیں۔اور شاید قلاوزیوں کا زوال دیکھنا ہمارے مقدر میں نہیں ہے۔

Wednesday, 18 April 2018

منزلیں اور سہارے



لہریں سمندر سے اُٹھتی ہیں کناروں سے نہیں
منزلیں ہمت سے ملتی ہیں  سہاروں سے نہیں
لہروں کا اور سمند ر کا دامن چولی کا ساتھ ہے ،لہریں ہیں تو سمندر اپنی شان و شوکت رکھتا ہے اور ایک ہیبت کا احساس دلاتا ہے ۔
منزلوں  اور سہاروں کا بھی کچھ حد تک ایسا ہی رشتہ ہے  اور لاشعور سے شعور سے کے سفر کے دوران سہاروں کا تناسب ہماری ضروریات کیمطابق کم یا  زیادہ ہوتا رہتا ہے اور کبھی کبھار کچھ مقامات پہ  پہنچ کہ سہاروں کی ضرورت شدت اختیار کر جاتی ہے اور کبھی کبھار ان سہاروں کو چھوڑ کہ اپنے پاؤں پہ  کھڑا ہونا ہی پڑتا ہے ۔ انسانی زندگی کا آغاز بھی سہاروں سے شروع ہوتا ہے بچے کو سہارے کی مدد سے اور امرِ الہی اے چلنا پھرنا اٹھنا بیٹھنا سکھایا جاتا ہے اور اک عرصہ تک اُسے سہارے پہ رکھا جاتا ہے اور پھر اکژ سہاروں پہ ہی اکتفا کرنے میں غنیمت جانتا ہے
انسانی زندگی میں جہاں ماں باپ کے سچے سہاروں نے مثبت کردار ادا کیا وہیں پہ سہاروں نے منفی اثرات بھی مرتب کیے ۔
ہمیں بچپن سے ہی سہاروں کا اتنا عادی بنا دیا جاتا ہے کہ ہم ساری زندگی سہاروں کو ہی اپنا سمجھ لیتے ہیں اور باوجود اپنی استطاعت کہ ہم کویئ بھی کا م سہارے کے بِنا سرانجام دینے سے قاصر ہوتے ہیں ۔
ہاں مگر اس دنیا میں اکژ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے ان تمام فانی اور جھوٹے سہاروں سے کنارہ کشی کی اور تنہا جان اپنی منزل کیطرف رواں دواں ہو گیے اور ایسے لوگو ں کے لیے کامیابیوں نے قدم چُومے ،اُنکی راہوں پہ کامیابیوں نے اپنی پلکیں بچھاہیں اور جو اُن افراد نے اپنی منازل کا تعین کیا تھا اُن پہ پہنچ کہ سکون کا سانس لیا لیکن ایسے افراد کی مثالیں چنداں ہیں ،
سہارے ڈھونڈنا اور سہاروں کی مدد سے منزلیں ڈھونڈنا اکژ وبیشتر ہمیں اپنی منزلوں سے دُور بھی دھکیل دیتا ہے اور باوجود استطاعت ہم اپنی طے شُدہ منازل سے اسلیے بھی دُور چلے جاتے ہیں کہ ہم نے اُن سہاروں کو اپنایا تھا  جو محض ایک جھوٹے سپنے اور دل کو تسلی دینے کی حد تک ہی تھے اور پھر اُس وقت تک اُن جھوٹے سہاروں نے ہماری صلاحیتوں پہ اتنا ظلم کردیا ہوتا ہے کہ ہم اپنی منزل سے بھی بھٹک جاتے ہیں اور ساری زندگی گِلے شکوے کا طوق ہمارے ہاں سینوں پہ لٹکا رہتا ہے ۔
اگر آپنے آگے اپنی منزل تک پہنچنا ہے تو یاد رکھنا آپنے اپنی منزل پہ خُود ہی پہنچنا ہوتا ہے ،اس دنیا کے سہارے اکژ دِھمک زدہ ،کچی، بے جان  لکڑی کی مانند ہوتے ہیں جو آپکو اپنی منزل پہ پہنچنے سے پہلے ہی آپکا ساتھ چھوڑ دیا کرتے ہیں۔ اپنی صلاحیتوں پہ اکتفا کیجیے اور اللہ کی مخلص ذات پہ تو منزلیں دُور نہیں جایا کرتیں۔۔۔

Tuesday, 17 April 2018

ہمارے کالم نگار


بی بی سی اردو میں لکھنے والے بھی سکھانے پڑھانے کی بجائے قارئین کوزیادہ تر جلی کٹی سناتے رہتے ہیں۔ رنگ برنگی سڑی بسی پھینکتے رہتے ہیں۔اب تبصرہ پڑھنا تو رشتہ داروں کی محفل جیسا ہو گیا ہے، ہر وقت زہر آلود سے طعنے اور دل جلا دینے والا دشنام۔کوئی ایک آدھ ہو تو پھر بھی ٹھیک، سب ہی دل جلانے والے ہیں۔ اور پھر کبھی کبھی ہو تو پھر بھی کچھ سہارا ہو، جو بھی لکھتا ہے، شرمندہ کرنے کے لیے ہی لکھتا ہے۔
پھر چونکہ یہ متعفن سی کلبیت مقبول بھی ہے اور اچھے پیسوں کی ضمانت بھی ہے ،اس لیے لبرل بلاگوں میں بھی اسی کا رواج ہے۔
پھر بھی شاید ٹھیک ہی ہے لیکن طعنہ زنی کے جوش میں یہ لوگ اپنا کیس ہی بھول جاتے ہیں۔
آج ثمینہ سندھو کی موت کے واقعے پر کسی نے کوئی کالم لکھا ہوا تھا۔ واقعے کی تفصیلات کے بارے میں مصنف کو اتنا یقین نہیں تھا کہ کیا واقعی ثمینہ اس لیے قتل ہوئیں کہ انھوں نے ایک تماشائی کی فرمائش پر کھڑے ہو کر ناچنے سے انکار کر دیا۔لیکن یہ کہتے ہوئے واقعے کے حقائق اتنے اہم نہیں،انھوں نے معاشرے کو خوب جلی کٹی سنائیں۔ یہاں تک شاید پھر بھی ٹھیک ہے لیکن جب ثمینہ کی نذر یہ شعر کرنا شروع کیے تو ہمیں معلوم ہوا انھیں تو شعر میں ستم کا تاثر فزوں کرنے کی آرزو اس قدر ہے کہ اپنا کیس ہی بھلا دیا۔
وہ حبیب جالب کے شعر تھے ۔ایک ہمیں یاد رہ گیا ہے کہ زرقا فلم کا گانا ہے۔
تو کہ ناواقف آداب غلامی ہے ابھی
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
ہم یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ پہلے اس بات کو طے تو کریں کہ کیا ان کو واقعی کھڑے ہو کر ناچنے کا حکم دیا گیا تھا ،جو انھوں نے نہیں مانا اور اتنی سی بات پر انھیں قتل کر دیا گیا۔ لیکن چند سطریں پہلے اس بات پر آپ خود ہی کوئی حتمی اور یقینی پوزیشن نہیں لے رہے، تو صرف اپنے شعر کو فٹ کر نے کے لیے بات کی نوعیت کیوں تبدیل کر رہے ہیں؟
اب یہ سادہ سی بات بھی انھیں بتائیں تو ایک کوسنے دیتا کالم ہمارے خلاف بھی آ جائے گا۔
ان لوگوں نے کالم کا ایک فارمولہ ترتیب دے لیا ہے جو بارڈ( ولیم شیکسپئیر) کے کھیل میکبیتھ میں ان تین کاہناوں کی کڑاہی جیسا ہے جو وہ کھیل کے مرکزی کردار میکبیتھ کے لیے تیار کرتی ہیں۔اس میں سے یہودیوں ،ترکوں اور تاتاریوں کا ذکر نکال کر اسے رجعت پسندوں، انتہا پسندوں اور اوریا مقبول جان کے ذکر سے تبدیل کرتے ہوئے یہ لبرل کالمی کڑاہی آپ کی خدمت میں پیسش کرتے ہیں۔
اس کڑاہی میں یہ اشیا ڈالیں
اژدہے کی کھال
بھیڑیے کا دانت
کسی کاہنہ کی حنوط شدہ میت
ایک خون آشام شارک کا نرخرا اور اوجھڑی
رات کی تاریکی میں اکھاڑی گئی زہریلی بوٹی کی جڑ
چاند گرہن کے دوران یو(yew) درخت کی چھوٹی چھوٹی ڈنڈیاں
کسی رجعت پسند کا جگر
کسی انتہا پسند کی ناک
اوریا مقبول جان کے ہونٹ
کسی بچے کی انگلی جسے اس وقت بچے کے جسم سے کاٹا گیا جب کسی گڑھے میں کوئی رجعت پسند اسے جنم دے رہی تھی
اب کڑاہی میں ان اجزا کو اچھے طریقے سے گاڑھا اور گہرا کر دیں اور ان اجزا کا اضافہ کر دیں
اب اس میں چیتے کی انتڑیاں اور بندر کا خون ملا دیں۔اب چمچے ہلاتے ہلاتے کڑاہی کے ارد گرد ناچنا شروع کر دیں
زور لگا کے ہیا
جلاو
کڑاہی دہکاو
اور دہکا کے
رجعتیوں کا
تا تھیا۔
اسی طرح کے ہوتے ہیں ان کے یہ کالم۔ شاید اچھے بھی ہوں لیکن ،ہم تو جب پڑھتے ہیں اخلاقی برتری کے نام پر میکبیتھ کی اسی کڑاہی کی مانند ایک گھناونا آمیزہ ہی ملتا ہے۔
اسی لیے یہ ہر وقت منٹو منٹو کرتے رہتے ہیں کہ اس کا مقابلہ تو بارڈ کی یہ بے چاری کاہنائیں بھی نہیں کر پاتیں۔

Sunday, 15 April 2018

ہم اور ہماری منافقانہ سوچ

جسکو پتھر کہہ دیا وہ خواہ ہیرا ہی کیوں نہ نکل آۓ وہ میرے لیے پتھر ہی ہے اور جسے ہیرا کہہ دیا وہ چاۓ پتھر ہی کیوں نہ نکل آۓ وہ میرے لیے پتھر ہی ہے ۔۔۔ لیکن اک المیہ ہمارے ساتھ بڑا عجیب سا ہے کہ ہم پتھر کو ہیرا بنانے اور ہیرے کو پتھر بنانے میں زیادہ دیر نہیں لگاتے ، اسے ہمارے دماغ کی نا پختگی سمجھو یا ہماری منافقت ۔ ۔ ۔ ۔ بہرحال اس کو دنیاداری کا نام دیا جاتا ہے جو کہ سراسر دنیاداری پہ تہمت ہے ۔ ۔ ۔

Saturday, 14 April 2018

cultural fraustrated

راہ گیر بھی مغرور، سائیکل والا بھی مغرور، موٹر سائیکل والا بھی مغرور، کار والا بھی مغرور، اور پولیس والا بھی مغرور۔ ہر کوئی یہی سمجھتا ہے کہ ٹریفک کے قوانین دوسروں کے لیے بنے ہیں اور اس کے لیے ان قوانین کا احترام ضروری نہیں ہے۔ اور پھر جب ان بڑی بڑی اناوں کا سڑک پہ گھمسان ہوتا ہے، تو پھر حا دثے ہوتے ہیں۔ لیکن حادثوں کے بعد رویے تبدیل نہیں ہوتے۔ اپنی نخوت پر نگاہ ہی نہیں جاتی۔ اپنی غلطی کو فراموش کر دیا جاتا ہے۔ اور سارا الزام قسمت پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اور پھر سڑک پر اسی غرور و نخوت کا گھمسان شروع ہو جاتا ہے۔سڑک ہی نہیں، خارجہ پالیسی بھی اسی طور پہ چلائی جاتی ہے۔سارا دن تذلیل سہتے گزر جائے لیکن اک چٹکی میں امریکہ اڑا کے رکھ دیں گے۔ہم ایک خاص امت ہیں، ایک خاص قوم ہیں، اور میں ایک خاص فرد ہوں، میرا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے؟ شہری تو ہیں ہی نہیں، خلفا، ، امرا اور بادشاہ ہیں۔اب اتنی بڑی ہستیوں سے تو بات کرنا ہی دشوار ہے۔ پہلے کورنش بجا لائیں، پھر جوتے سیدھے کریں، پھر گھٹنے چھوئیں اور پھر پاوں پر ناک رگڑیں پھر بات ہو سکتی ہے۔ اتنی عظیم ہستیوں کو جاہل مولویوں اور جعلی پیروں کی نعلین برداری کرتے دیکھ کر حیرانی ہی ہوتی ہے۔ ارے حیران ہونے کی اتنی کیا ضرورت ہے؟بنیادی پیغام عجز نہیں، ذات کی نفی ہے اور ذات کی نفی اپنی انسانیت کی نفی ہے اور انسانیت کی نفی ہر اس چیز کی نفی کر دیتی ہے جس اس سے انسان کی بھلائی ہو۔ اس کا مطلب قانون اور اخلاقیات کی نفی ہے، محبت، ہمدردی، مہربانی کی نفی ہے۔ یہ مولوی اتنے سنگ دل اور بے رحم کیوں ہوتے ہیں؟ یہ ہم اجتماعی طور پر اتنے سنگ دل اور بے رحم کیوں ہیں؟ آپ شاید کہیں کہ ایسا نہیں، ہم تو بڑی مخیر قوم ہیں، لیکن شہری ترقی کے حوالے سے کوئی بھی عالمی فہرست اٹھا لیں، اس میں ہمارا درجہ ان مقامات پر ہے، جو شہری ترقی کے حوالے سے ناکامی اور نامرادی کے سنگ ہائے بیابان ہیں اور جو کبھی ان صحراوں میں کسی گلزار کا سنگ میل نصب کرے،ہم سنگ میل اکھاڑ دیتے ہیں اور اسے نفی کی قربان گاہ کی نذر کر دیتے ہیں۔ کبھی کشتنی قربانی، کبھی سوختنی قربانی۔ ہمارے فرد اور انسان ہونے کی نفی ہمارے تعلیمی نصاب کا حصہ ہے۔ ہمارے قوانین اس نفی کی آئینہ داری کرتے ہیں۔ مولانا مودودی بھی یہی کہتے ہیں، فیض صاحب بھی یہی فرماتے ہیں، علمائے کرام تو ہمیں گناہوں کی غلاظت سے نکلنے نہیں دیتے، اور پیسے بھی لے لیتے ہیں، صوفیا نذرو نیاز سے تو لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن انسان کا مقام ان کے ہاں کتوں سے بھی بدتر ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ سب کچھ کہاں لے جاتا ہے؟ نخوت میں مبتلا، اپنی عزت سے محروم افراد، جو محبت اور عقل دونوں سے بے صفت ہیں اور اس قدر خوفزدہ ہیں کہ سچی بات کر ہی نہیں سکتے۔ پتا نہیں ہماری ایسٹیبلشمنٹ ہمیں ایسا بے وقعت انسان کیوں بنانا چاہتی ہے؟ اور ہم سب اس ایسٹیبلشمنٹ کا کیوں ساتھ دیتے ہیں؟ کیا یہی انسانیت کی معراج ہے ؟ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ سب لوگ ایسے ہیں لیکن ہم صرف اتنا کہہ رہے ہیں کہ انسانیت کی نفی سے متعلق خیالات کے ایسے نتائج رونما ہوتے ہیں۔ اور پاکستان میں رہنے والوں میں سے شاید ہئ کوئی ایسا فرد یو جسے ان نتائج کا تجربہ نہ ہوا ہو۔ تو جن خیالات اور اعمال نے ہمیں بطور قوم نقصان ہی پہنچایا ہے، انھیں ترک کرنا ضروری ہے۔ قوموں کے ساتھ اس سے بھی برا ہوا ہے لیکن انھی قوموں نے اپنے اپنے شجر ظلمت سے نجات بھی حاصل کی ہے۔ ہم بھی اپنے اس شجر ظلمت کی سب شاخیں کاٹ سکتے ہیں۔ چیزیں حالات پر بھی منحصر ہوتی ہیں لیکن فیصلوں کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ہمارے خیال میں حالات کیسے
بھی ہوں، ایک اچھا اور مشکل فیصلہ تو موجود ہی رہتا ہے

Friday, 13 April 2018

Financial Status and friendship

In our community knowing someone's financial status is very intresting hobby of every body. Every person is in try to make his/her friend according to his/her financial status , nobody is seeking loyality in the people nor they try to make their friends loyal and its big fault of our society and our people. 
Due to that hobby many people are un setisfied with their friends and with the other community because rich is in search to make the friends according to his status and poor one is cursing on them and trying to get the money in wrong ways to overcome his inferiority complex and want to be rich in few days . 
If we left this cheap hobby i.e. searching same as we are , believe me our society our community and our souls become heaven. 
Being a human its our big fault that most from us become status concious and its big evil in our society try to get loyal people in the circle of your friendship. 
if someone has car he is in try to get his friend who has car also , he will not adot anybody who is loyal but poor. 
Be a realistic not materialistic person. 
realistic person can't be beat in any field of life but if you are materialistic then you will beat in every field.
be happy and stay blessed .

Thursday, 12 April 2018

Allah say maangna

ربِ کائنات سے پنجتن کے صدقے مانگنے والا کبھی اُس چیز سے بھی محروم نہیں رہتا جس کا اُس نے ابھی تصور ہی کِیا ہوتا ہے !!!

٭اک واقعہ لاشعور کا٭

سانپ اور بچھوؤں نےبھی اِک دن خُدا سے اک سوال کر ہی ڈالا اے مولا تُو نے ہمیں تو جانور بنا یا تھا ہماری نیچر میں شامل کیا تھا کہ ہم نے ڈسنا ہے تیری مخلوق کو عبرت دینی ہے پر تیری تو اشرف المخلوقات میں بھی ایسے انسان نما جانور موجود ہیں تو ہمارے بنانے کا مقصد؟؟؟ تو خُدا نے جواب دیا کہ گویا وہ انسان ہی بناۓ گیے تھے مگر اُنکی کمظرفی اُن پہ غالب آگیئ اور اُنہوں نے مجھے یعنی خُدا کو بُھلا دیا اور چند لمحات اور اپنی ہوس کی خاطر تمہاری طرح بننے کو ترجیع دے دی۔ ۔ ۔
راجہ عمر شکیل۔۔۔///

دنیا داری اور منافقت

ارے ہاں دنیاداری ہی تو منافقت کا دوسرا نام ہے یار یہ جو ہم دنیادار بنے پھرتے ہیں ناں ہم نے اپنی منافقت پہ پردا سا ڈالا ہوا ہے کیونکہ ہم یہ کہلوانہ نہیں چاہتے کہ اوۓ تُو بڑا منافق ہے نہ ہی سننا چاہتے ہیں کہ ہم منافق ہیں ۔۔

our inner voice and our behaviour


"لہجے کب تلک میٹھے رکھنے ہیں ہمارے مقاصد طے کرتے ہیں"
کچھ الفاظ ہماری زندگیوں پہ ہماری خوشیوں پہ ڈاکو ثابت ہوتے ہیں،اور ہم اُن الفاظ کو اپنی عزت کا درجہ سمجھ کہ خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہیں ، راجہ صاحب ،چودھری صاحب ،ملک صاحب یا کوہی اور الفاظ جو اکژوبیشتر آپکو عزت دینے کیلۓ استعمال کیے جاتے ہیں اور بیشک ہوتے بھی ہیں لیکن ہمارے معاشرے کی تلخ اور بھیانک حقیقت یہ بھی ہے کہ اکژ ایسے الفاظ کو اپنا وطیرہ بناتے ہیں جب ہم نے کسی نہ کسی سے کسی نہ کسی طور پہ اپنے مقاصد کی تکمیل کی ٹھانی ہوتی ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے ہم خوشامدانہ تعریف کے کتنے پیاسے ہیں کہ اللہ کی پناہ ۔ اور ہم ان الفاظ کو حرفِ آخر سمجھ کہ اپنی جان تک نچھاور کر دیتے ہیں اور اک لمبے عرصی کہ لیے اُن الفاظ کی رنگینوں اور بظاہر میٹھے لہجے کی مٹھاس سے باہر نکلنے سے قاصر ہوتے ہیں اور اک عرصہ کے بعد ہمیں خبر ہوتی ہے کہ یار یہ تو محض اک جُھوٹ تھا،مگر پھر اک اُمید کا چراغ جلتا ہوا دیکھاہی دیتا ہے کہ نہیں یار شاہد کسی کو ہمارا احساس ہوجاۓ مگر آج تک ایسا حادثہ رونما نہیں ہوا اگر ہوا بھی ہے تو یہ شاہد اللہ کا کسی پہ انعام ہوا ہے ۔
ہم سب اُس وقت تک سب کے لیے اچھے ہوتے ہیں جب تک ہم قابلِ استعمال ریتے ہیں ہم سب اُنکی نظروں میں منفی سوچ کے مالک تب ہوتے ہیں جب ہم اُن کے استعمال میں نہیں رہتے ، اس زمانے کے لوگوں میں آپ اگر اپنے جسم کا لوتھڑا ،لوتھڑا بھی تقسیم کردو تو آپ سے راضی نہیں۔ 
ایسے نام نہاد لوگو ں کے دیۓ گہے دکھوں،دردوں پہ رونے سے بہتر ہے کہ آپ اپنی ذات کو وقت دیا جاۓ کیونکہ آپکے اندر کی آواز ایک ایسی آواز ہے جو ڈر ،جھوٹ اور منافقت سے پاک ہے ،ہمیں اپنے اندر کی آواز سناہی بھی دیتی ہے مگر ہم اس دنیا کو راضی کرنے میں اتنے مگن ہیں کہ ہم اپنی آواز کو دبا دیتے ہیں اور دُکھ درد ہمارے مقدر بن جاتے ہیں ۔ اپنے مَن کی آواز کو تقویت دیجیۓ۔ 
"میری کردار کشی کرنے والو،
خُدا ہم بھی رکھتے ہیں 
وہ الگ بات ہے کہ ہم ذرا چھپا کہ رکھتے ہیں"

indian philosphy


Indian philosophy is too much obsessed with salvation by freedom from this painful cycle of life.
Even being a Raja(King), a Brahmana(Priest), a Deva(god) is not the highest aspiration.They just aspire nothingness as the highest spiritual form.
That is totalitarianism because while living nothingness could be achieved by rejecting morality,compassion and life because to be someone means ethical responsibilities. 
But this nothingness as highest spiritual ideal means that while living it is everybody's duty to be akin to nothingness.So a Raja(king) high on Indian ideals would be like Modi.A noisy nothingness.

پنجابی فلمیں ،ہم اور ہماری اسٹیبلشمنٹ



پہلے پنجابی فلمیں آئیں، شوخ کپڑے، گرجدار چنگھاڑیں، بدمعاشوں کی لڑائیاں،عجیب عجیب سے گانے، کبھی کچھ اچھا لیکن زیادہ تر چھچھورا، جوشیلا، سفلہ، شہدا،گھٹیا، کمینہ۔ ظاہر ہے اس سب کا تعلق فلم کے فن،عقل، تخلیق، گہری سوچوں، گہرے مشاہدوں، گہرے تجربوں ، جمہوریت، انسانیت سے کیا ناتا ہو سکتا تھا؟ بس ایک چھچھوری سی آمریت اپنی صورت میں معاشرے کو ڈھال رہی تھی، ایک سانچا بنا رہی تھی جس میں کروڑوں فٹ ہو جائیں۔اور آمریت کو سہولت رہے۔ 
اس کا حل بے ہنگم سے پنجابی ڈراموں میں ڈھونڈا گیا۔ جن کو شاید ڈراما کہا ہی نہیں جا سکتا۔بس ایک چھچھوری قسم کی فحش گوئی جسے لوگ جگت بازی کہتے تھے،اس کا رواج ہو گیا۔جس میں ناک نقشے سے لے کر صنف تک پر بات کے ساتھ بھونڈی قسم کی تفریح وابستہ ہو گئی۔راہ چلتے لوگوں سے چھیڑ چھاڑ اک فضیلت سی بن گئی۔اس سب کچرے کے ساتھ ایک جزوی سی قومیت پسندی منسلک کر کے اس کچرے کو فروخت کیا جاتا تھا۔
اب خبریں ہیں اور معلومات عامہ کے پروگرام۔ جس طرح ان گھٹیا فلموں اور ان گھٹیا ڈراموں کا فلم اور ڈرامے کے فن سے کوئی تعلق نہیں ہے اسی طرح ان خبروں کا خبر سے کوئی تعلق نہیں۔اور معلومات عامہ کے پروگراموں کا معلومات عامہ سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔ سیاسی تجزیوں کا سیاست سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔
اب تو اس سب کو چالیس پچاس سال ہونے کو آئے۔ اس سب کی ابتدا میں جو لوگ نوجوان تھے، وہ بوڑھے ہو گئے ہیں اور ان بوڑھوں میں کچھ بڑے افسر، بڑے جنرل، بڑے سیاستدان، بڑے جج اور دیگر اہم عہدوں پر موجود ہیں۔
جن خبروں کا خبر سے کوئی تعلق نہیں ہے، وہاں یہ سب لوگ موجود ہیں۔اور جن خبروں کا خبر سے کوئی رشتہ نہیں ہے ان خبروں میں موجود رہنے کے لیے بے تاب بھی بہت رہتے ہیں۔
ہمیں تو ان سب میں وحشی ڈوگر، مولا جٹ، نوری نت،دارو، طوفان گجر اور اس طرح کے کردار نظر آتے ہیں۔ ہم نے یہ فلمیں اتنی زیادہ دیکھیں نہیں ورنہ کچھ اور کرداروں کے نام لکھ دیتے۔ جو دیکھیں ،ان میں کچھ تھا ہی نہیں کہ یا د رکھ پاتے۔اسی طرح مولانا مودودی کے افکار بھی بھول جاتے ہیں۔ دوست کہتے رہتے ہیں کہ ان کا ایک تفصیلی تجزیہ کریں، لیکن ان فلموں ، ڈراموں اور فلموں کو دیکھنا اور ان افکار کو پڑھنا ایک اذیت دہ سی بوریت کا سبب بن جاتا ہے کہ اس سب میں کچھ با معنی تو ہے ہی نہیں۔
اسی طرح کے ہمارے ہاں کے بڑے لوگوں کے اشارات، بیانات اور احکامات میں بامعنی موجود ہی نہیں ہے۔ اب کہاں تک کوئی سطحی سی سازشوں کے پیچ و خم میں الجھا رہے۔کسی نے یہ ٹویٹ کیا، کسی نے وہ پریس کانفرنس کی،کسی نے انٹرویو دیا اور مخالفین کے لتے لیے، اس سب میں کیا رکھا ہے؟آگہی دام شنیدن بچھاتی رہتی ہے لیکن عالم تقریر سے کچھ واضح نہیں ہوتا کہ کہنا کیا چاہ رہے ہیں، جو کہہ رہے ہیں،اس کا قانون، عقل، تخلیق، تجربے، جمہوریت اور انسانیت سے کوئی ناتا ہے؟ طول شب فریق شاید ماپ لیں بڑے لوگوں کی باتوں کا معنی سے کوئی تعلق دریافت کرنا بہت مشکل ہے۔
سیاسی جماعتیں متحد ہو جائیں گی تو جمہوریت کیسے مضبوط ہو گی؟ سیاسی جماعتیں متحد بھی رہیں لیکن جمہوریت توانا نہیں ہوئی۔ جمہوریت کیوں نہیں توانا ہوئی کہ سیاست دان جس آمریت نے رنگین پنجابی فلمیں شروع کی تھیں اس کے اثر سے آزاد نہ ہو پائے۔وہ بس شوخی میں نقلی سے کام کرتے رہے۔جو کرنے تھے وہ نہیں کیے۔ 
ایسٹیبلشمنٹ کا بھی دیکھ لیں، اگر ملک کا ہر شہری بزنجو بن جائے،اس سے ملکی مفاد کا دیرپا تحفظ کیسے ہو گا؟پنجابی فلموں کے کردار تو بن گئے، لاہور کے ڈراموں جیسی بات چیت بھی کرنے لگے اور سنسناتی خبروں سے بھی زیادہ سنسنی خیز بیان بھی دینے لگے، اس سے سب سے کیا فائدہ ہوا؟ یہی ناں کہ پوری دنیا میں ملکیوں کی بات کا بھرم ہی نہیں ہے اور ان کے بارے میں مجموعی طور پر دنیا میں یہی تاثر ہے کہ ملکیوں کا فن ،عقل، تخلیق، جمہوریت، قوانین ، اخلاقیات سے ناتا بہت ہی کمزور ہے۔
ایک بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ سطحیت کی تربیت کے نتائج معاشرے میں فن، عقل، تخلیق، جمہوریت، قوانین ، اخلاقیات اور انسانیت کے فروغ کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتے ہیں۔
پتا نہیں سچ ہے کہ جھوٹ لیکن کہتے ہیں اس آمریت کے دور میں زلفی بھٹو صاحب کی پھانسی پر دو رکعت نماز نفل کی ادائی اعلی عہدوں تک رسائی کی وجہ بن جاتی تھی۔واقعہ شاید جھوٹا ہی ہو لیکن آمریت کے دور میں جو لوگ اعلی عہدوں پر فائز تھے ان کی نالئقی کا ثبوت حالات، واقعات اور اعداد و شمار میں ہر کہیں نظر آ جاتا ہے۔
وہ سطحیت جو درسی کتابوں، مذہبی تقریروں، ڈراموں، فلموں اور خبروں میں اتنے طویل عرصے تک تعلیم کی گئی، وہ تو ناکام ہو گئی۔اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اداروں کی فہرستیں دیکھ لیں، وہاں ہم لوگوں کا ذکر انسانیت کی ناکامی کی سرخیوں کے تحت ہی ہوتا ہے۔ اب تو وہ سطحیت بلا بن گئی ہے، جس سے پیچھا چھڑانا ہی مشکل ہو گیا۔ ایک ہی حل ہے کہ گفتگو میں کچھ معنی شامل ہو جائیں۔شور شرابا تو پچھلے تیس چالیس سال سے ہو رہا ہے اور کرنے سے اجتماعی بہتری یا اجتماعی بقا کا کوئی مقصد تو حاصل نہیں ہوگا۔
اب کتنی نسلیں برباد کریں گے؟ ایک اہم انسان ہونا بڑی بات ہوتی ہے لیکن اس اہمیت کا کچھ رشتہ کام سے بھی تو جوڑ لیں۔اور اس سطحیت سے کوئی مختلف پالیسی تو سوچ لیں۔ کم ازکم جو آجکل نوجوان ہیں ،ان کا ہی کچھ دھیان کریں۔ آپ لوگوں کی نوجوانی میں سطحیت کا فروغ ہوا۔ وہ جیسے جناب امیر سے منسوب ہے کہ انھوں نے کسی کو کہا تھا، جب تم بچے تو ناشائستہ تھے، اب بوڑھے ہو گئے ہو ،ابھی تک ناشائستہ ہو۔ہمارے کہنے کا مطلب ہے کہ تمھیں نوجوانی میں سطحیت تعلیم کی گئی اور بوڑھے ہو گئے ہو ،ابھی تک اسے سے چمٹے ہو۔ اب جو نوجوان ہیں، ان کو اگر فن ،عقل، شائستگی، تخلیق، جمہوریت، کام، ہنر، اخلاق اور انسانی حقوق کی تعلیم ملے تو یہ شاید اچھائی اور گہرائی سے وابستہ رہیں اور تم جو کام نصف صدی سے زیادہ عرصے میں نہ کر سکے، وہ دہائیوں میں کر لیں ۔پھر تم لوگوں کے تجربے سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو بچپن اور نوجوانی میں لوگ سیکھتے ہیں، اس کا اثر کافی دیرپا ہوتا ہے۔ اور اچھائی اور گہرائی کا عمومی فروغ حکومتی اور ریاستی امداد کے بغیر نہیں ہو سکتا۔اس وقت آپ لوگ اہم جگہوں پر موجود ہیں تو اچھے فیصلے کریں۔لیکن آپ لشکاروں میں کچھ اس طرح کھو گئے ہیں کہ آپ کو یاد ہی نہیں رہتی کہ آپ کا عہدہ کیا ہے اور اس عہدے سے وابستہ ذمہ داریاں کیا ہیں؟
لیکن اب انائیں کوہساروں سے بلند ہیں اور عمومی ذہانت کی بات چیونٹی بنی کھائیوں میں رینگ رہی ہے، اب کوہساروں سے کہاں چیونٹیاں دکھتی ہیں۔اور کوئی عمومی ذہانت کا سائز بڑا کرنے کی کوشش کرے، وہ صنم کی کمر کی طرح ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا کہ ایسے لوگوں کو موہوم اور معدوم کرنا کوہساروں جیسی اناوں کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔
لیکن اس کے سوا کوئی حل نہیں ہے۔ عقل کی، علم کی ،فن کی، تخلیق کی، عمومی ذہانت کی، کام کی، ہنر کی، قانون کی،اخلاقیات کی، جمہوریت کی اور انسانیت کی بات تو سننا ہی پڑے گی۔جیسے ہم اکثر کہتے ہیں پانچ صدیوں کے بعد بھی یہی کچھ کرنا پڑے گا۔ ابھی سے کیوں نہیں؟                                


خُدا اور جھوٹا معشوق

خُدا سے دُور ،خُدا سے متنفر کروانے والا شخص اکژ اوقات ہمارا جھوٹا معشوق بھی ہوتا ہے ۔ عاشقوں معشوقوں کی دنیا میں بھی کیا عجیب ماحول ہوتا ہے ،، سچا عاشق اپنے خُدا پہ بڑا امید رکھتا ہے اور جھوٹا معشوق اُسے خُدا سے دور کیسے لے کے جاتا ہے ۔آہیے پڑہیے
عاشق: مجھے اللہ پہ مکمل بھروسا ہے کہ تم میرے ہوجاؤ گے۔ ۔                                                                                                               
معشوق: لیکن مجے سوچنا چھوڑ دو ،میں تمہاری قسمت میں نہیں ہوں
 !!!عاشق گہرا سانس لیتے ہوۓ
لیکن تمیں خُدا پہ یقین نہیں ہے ؟؟؟
                                                                                         معشوق : (خاموش رہتا ہے اور پھر جواب دیتا ہے ) بس تمہیں بولا ناں بھول جاؤ مجھے
عاشق خُدا سے دعاہیں مانگتا ہے روتا ہے گڑگڑاتا ہے لیکن وہ کیا ہے نا ں کہ خُدا بھی وہی عطا کرتا ہے جو انسان کے حق میں بہتر ہو
عشق ناکام ہوجاتا ہے ،معشوق کہیں اور پیار محبت کے چکر چلاتا ہے اور اپنے حُسن کا کاروبا ر چمکا لیتا ہے ۔ نہی نہی چوٹ ہوتی ہے عاشق اپنے ہوش کھو دیتا ہے اور کچھ وقت تک اپنے خُدا سے گلے شکوے کرتا ہے اور دور ہوجاتا ہے !
عمر

power of your words